جمعرات 22 اکتوبر 2026 - 10:49
حضرت فاطمہ زہراء (س) شخصیت، فضائل اور سیرت

حوزہ/ قرآن مجید کی آیات جب کسی عظیم شخصیت کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ہمارے سامنے آتی ہیں تو ضروری ہوتا ہے کہ ہم ان کے الفاظ، سیاق و سباق، شانِ نزول سے متعلق روایات اور مفسرین کی آرا کو پوری توجہ کے ساتھ دیکھیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا مطالعہ بھی اسی علمی اصول کا تقاضا کرتا ہے۔

تحریر: مولانا سید کرامت حسین شعور جعفری

حوزہ نیوز ایجنسی|

قرآن مجید کی روشنی میں مقامِ فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا

قرآن مجید کی آیات جب کسی عظیم شخصیت کے مقام و مرتبے کو سمجھنے کے لیے ہمارے سامنے آتی ہیں تو ضروری ہوتا ہے کہ ہم ان کے الفاظ، سیاق و سباق، شانِ نزول سے متعلق روایات اور مفسرین کی آرا کو پوری توجہ کے ساتھ دیکھیں۔ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کا مطالعہ بھی اسی علمی اصول کا تقاضا کرتا ہے۔

آپؑ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دخترِ گرامی ہیں، لیکن آپؑ کا مقام صرف نسبتِ پدری تک محدود نہیں۔ قرآن مجید میں اہلِ بیتؑ سے متعلق آیات اور رسول اللہؐ سے منقول احادیث آپؑ کی فضیلت، طہارت اور قربِ نبوی کے مختلف پہلو سامنے لاتی ہیں۔

اس قسط میں ہم تین اہم قرآنی مقامات کا مطالعہ کریں گے: آیتِ تطہیر، آیتِ مباہلہ اور سورۂ دہر کی آیاتِ اطعام۔ ان کے ساتھ ان روایات کو بھی پیش کیا جائے گا جن میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور اہلِ بیت علیہم السلام کا ذکر آیا ہے۔ مقصد یہ ہے کہ عقیدت کو مستند دلیل کی روشنی ملے اور دلیل کو ایسا سادہ بیان میسر آئے جو ہر قاری کے لیے قابلِ فہم ہو۔

۱۔ آیتِ تطہیر: اہلِ بیتؑ کی طہارت اور عظمت

قرآن مجید میں ارشادِ الٰہی ہے:

عربی متن: إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا

ترجمہ: اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ اے اہلِ بیت! تم سے ہر طرح کی آلودگی دور رکھے اور تمہیں خوب پاک و پاکیزہ رکھے۔حوالہ: قرآن مجید، سورۂ احزاب، ۳۳:۳۳۔

یہ آیت اہلِ بیتِ رسولؐ کے مقام و مرتبے پر گفتگو کا بنیادی قرآنی حوالہ ہے۔ اس میں دو باتیں خاص طور پر قابلِ توجہ ہیں: پہلی یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بیت سے رجس کو دور رکھنے کا ارادہ بیان فرمایا، اور دوسری یہ کہ انہیں خصوصی طور پر پاک و پاکیزہ رکھنے کا ذکر کیا۔

لیکن اس آیت کے مصادیق متعین کرنے کے لیے صرف اس کے الفاظ ہی نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تشریحات اور احادیث کو بھی دیکھنا ضروری ہے۔ اسی سلسلے میں حدیثِ کساء کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔

حدیثِ کساء: رسول اللہؐ نے اہلِ بیتؑ میں کن ہستیوں کو جمع فرمایا؟

ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:

عربی متن: خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةً وَعَلَيْهِ مِرْطٌ مُرَحَّلٌ مِنْ شَعَرٍ أَسْوَدَ، فَجَاءَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ جَاءَ الْحُسَيْنُ فَدَخَلَ مَعَهُ، ثُمَّ جَاءَتْ فَاطِمَةُ فَأَدْخَلَهَا، ثُمَّ جَاءَ عَلِيٌّ فَأَدْخَلَهُ، ثُمَّ قَالَ:«إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا»

ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک صبح باہر تشریف لائے، آپؐ پر سیاہ بالوں سے بنی نقش و نگار والی چادر تھی۔ پہلے حسن بن علی آئے تو آپؐ نے انہیں چادر میں داخل کر لیا، پھر حسین آئے تو انہیں بھی ساتھ کر لیا، پھر فاطمہ آئیں تو انہیں بھی داخل کر لیا، پھر علی آئے تو انہیں بھی شامل کر لیا۔ اس کے بعد آپؐ نے آیتِ تطہیر تلاوت فرمائی۔

مکمل حوالہ: مسلم بن حجاج، صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، باب فضائل اہلِ بیت النبی صلی اللہ علیہ وسلم، حدیث ۲۴۲۴؛ کتابی ترتیب میں کتاب ۴۴، حدیث ۹۱۔

یہ روایت اہلِ سنت کی معتبر حدیثی کتاب میں موجود ہے۔ اس میں رسول اللہؐ کے عمل کے ذریعے حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو اہلِ بیت کے خصوصی مصادیق میں شامل کیے جانے کا واضح بیان ملتا ہے۔

یہاں ایک علمی نکتہ سمجھنا ضروری ہے: اس روایت سے ان پانچ مقدس ہستیوں کی خصوصی فضیلت ثابت ہوتی ہے، لیکن آیت کے وسیع تر تفسیری دائرے کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان مزید گفتگو بھی موجود ہے۔ اس لیے حدیث کے ثابت شدہ مضمون اور اس سے اخذ کیے جانے والے وسیع تر عقائدی نتائج میں فرق ملحوظ رکھنا چاہیے۔

ام المؤمنین ام سلمہؓ کی روایت

حدیثِ کساء کے مضمون کی تائید ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے منقول روایت سے بھی ہوتی ہے، جس میں رسول اللہؐ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کے لیے دعا فرمائی۔

اس مضمون کی روایات تفسیر طبری میں سورۂ احزاب کی آیت ۳۳ کے تحت بھی نقل ہوئی ہیں۔

اس طرح حدیثِ کساء کے مختلف طرق ہمیں یہ سمجھنے میں مدد دیتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام اہلِ بیتؑ کے اس خصوصی حلقے میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے جس کے بارے میں رسول اللہؐ نے آیتِ تطہیر کی تلاوت فرمائی۔

حضرت فاطمہؑ کی عظمت کا یہ پہلو محض ایک خاندانی نسبت نہیں، بلکہ قرآن اور سنت کی روشنی میں آپؑ کے مقام کو سمجھنے کی بنیاد ہے۔

۲۔ آیتِ مباہلہ: حضرت فاطمہؑ کی عظمت کا ایک روشن ثبوت

قرآن مجید کی ایک اور اہم آیت سورۂ آل عمران میں ہے، جو رسول اللہؐ اور نصاریٰ نجران کے درمیان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہونے والی گفتگو کے پس منظر میں نازل ہوئی۔

عربی متن:فَمَنْ حَاجَّكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ أَبْنَاءَنَا وَأَبْنَاءَكُمْ وَنِسَاءَنَا وَنِسَاءَكُمْ وَأَنْفُسَنَا وَأَنْفُسَكُمْ ثُمَّ نَبْتَهِلْ فَنَجْعَلْ لَعْنَتَ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ

ترجمہ: پس علم آجانے کے بعد بھی جو شخص اس معاملے میں آپ سے بحث کرے، اس سے کہہ دیجیے: آؤ، ہم اپنے بیٹوں کو بلائیں اور تم اپنے بیٹوں کو، ہم اپنی عورتوں کو بلائیں اور تم اپنی عورتوں کو، اور ہم اپنے نفسوں کو بلائیں اور تم اپنے نفسوں کو، پھر ہم سب مل کر دعا کریں اور جھوٹوں پر اللہ کی لعنت قرار دیں۔

حوالہ: قرآن مجید، سورۂ آل عمران، آیت ۶۱۔

آیت میں رسول اللہؐ کو مباہلے کی دعوت دینے کا حکم دیا گیا۔ مباہلہ اس موقع پر دعا اور اللہ کے حضور فیصلہ طلب کرنے کا عمل تھا جب ایک اہم دینی مسئلے پر بحث کے باوجود حق واضح نہ ہو رہا ہو۔

اس واقعے کے سلسلے میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے: رسول اللہؐ اپنے ساتھ کن افراد کو لے کر تشریف لے گئے؟

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی روایت

صحابی رسول حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ جب آیتِ مباہلہ نازل ہوئی تو رسول اللہؐ نے حضرت علی، حضرت فاطمہ، امام حسن اور امام حسین علیہم السلام کو بلایا اور فرمایا:

عربی متن:اللَّهُمَّ هَؤُلَاءِ أَهْلِي

ترجمہ: اے اللہ! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔

مکمل حوالہ: محمد بن عیسیٰ ترمذی، جامع الترمذی، کتاب تفسیر القرآن، سورۂ آل عمران کی تفسیر، حدیث ۲۹۹۹۔ امام ترمذی نے اس روایت کو حسن غریب صحیح قرار دیا ہے؛ دارالسلام کی تخریج میں بھی اسے صحیح درج کیا گیا ہے۔

یہ روایت حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مقام کو سمجھنے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ مباہلے جیسے اہم موقع پر رسول اللہؐ نے جن افراد کو اپنے ساتھ منتخب فرمایا، ان میں آپؑ شامل تھیں۔

یہاں ایک اور پہلو بھی قابلِ توجہ ہے۔ آیت میں «نِسَاءَنَا» یعنی ہماری عورتوں کا ذکر ہے، اور روایت میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کا نام صراحت کے ساتھ آتا ہے۔ اس سے اس موقع پر آپؑ کی خصوصی حیثیت نمایاں ہوتی ہے۔

اس واقعے سے یہ نتیجہ ضرور نکلتا ہے کہ حضرت فاطمہؑ رسول اللہؐ کے نزدیک نہایت بلند مقام رکھتی تھیں۔ تاہم امامت اور دیگر عقائدی مباحث کے تفصیلی نتائج اخذ کرنے کے لیے اس آیت کے ساتھ دوسری قرآنی آیات اور احادیث کو بھی سامنے رکھنا ضروری ہے۔

آیتِ مباہلہ سے حاصل ہونے والا پیغام

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شرکتِ مباہلہ اس تصور کی تردید کرتی ہے کہ ابتدائی اسلامی معاشرے میں عورت کا مقام صرف گھر کی چار دیواری تک محدود تھا۔ رسول اللہؐ نے ایک نہایت اہم دینی موقع پر اپنی دخترِ گرامی کو ساتھ لے جا کر ان کے مقام و اعتماد کا عملی اظہار فرمایا۔

اس واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کی عظمت اس کے کردار، ایمان، پاکیزگی اور دینی مقام سے وابستہ ہے۔ جب ایک خاتون ایمان و کردار کی بلندی پر فائز ہو تو وہ دین کی نمائندگی کرنے والی عظیم شخصیات میں شمار ہو سکتی ہے۔

۳۔ سورۂ دہر: ایثار، اخلاص اور اہلِ بیتؑ کی سیرت

قرآن مجید میں اہلِ ایمان کی ایک بنیادی صفت یہ بیان ہوئی ہے کہ وہ دوسروں کی ضرورت کو اپنی خواہش پر ترجیح دیتے ہیں۔ سورۂ انسان، جسے سورۂ دہر بھی کہا جاتا ہے، میں ارشاد ہوتا ہے:

عربی متن:وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَىٰ حُبِّهِ مِسْكِينًا وَيَتِيمًا وَأَسِيرًا ۝٨إِنَّمَا نُطْعِمُكُمْ لِوَجْهِ اللَّهِ لَا نُرِيدُ مِنكُمْ جَزَاءً وَلَا شُكُورًا ۝٩

ترجمہ: اور وہ اللہ کی محبت میں، یا اس کی رضا کے لیے، محتاج، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ہم تمہیں صرف اللہ کی خوشنودی کے لیے کھانا کھلاتے ہیں؛ ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں اور نہ شکریہ۔

حوالہ: قرآن مجید، سورۂ انسان، آیات ۸ تا ۹۔

ان آیات میں ایک ایسے کردار کی تصویر پیش کی گئی ہے جو اپنی پسندیدہ چیز بھی دوسروں کو دے دیتا ہے، کسی بدلے کی توقع نہیں رکھتا اور اپنی نیکی کو شہرت حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بناتا۔

اہلِ بیت علیہم السلام کے بارے میں تفسیری روایات میں ان آیات کو ایک معروف واقعۂ ایثار سے بھی جوڑا گیا ہے۔ اس روایت کے مطابق حضرت علی علیہ السلام، حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا اور ان کے گھرانے نے محتاجوں کو کھانا کھلانے میں ایثار کا مظاہرہ کیا۔

اہلِ سنت کے مفسر امام بغوی نے بھی سورۂ انسان کی آیت ۸ کے تحت حضرت علی علیہ السلام کے بارے میں اس سببِ نزول کی روایت نقل کی ہے، اگرچہ انہوں نے دوسری اقوال بھی ذکر کیے ہیں۔

سببِ نزول کے بارے میں علمی احتیاط

اس مقام پر یہ وضاحت ضروری ہے کہ کسی آیت کے سببِ نزول سے متعلق روایت نقل کرنا اور اس روایت کی سند کو قطعی طور پر صحیح قرار دینا دو الگ باتیں ہیں۔ سورۂ انسان کی ان آیات کے سببِ نزول کے بارے میں مفسرین کے ہاں مختلف اقوال نقل ہوئے ہیں، اس لیے تحقیقی تحریر میں روایت کی نسبت، اس کے مآخذ اور سند کی حیثیت کو الگ الگ جانچنا چاہیے۔

تاہم ان آیات کا عمومی اخلاقی پیغام بالکل واضح ہے: حقیقی نیکی وہ ہے جس میں انسان دوسروں کی ضرورت کو اہمیت دے، اپنی محبوب چیز قربان کرے اور عمل کو اللہ کی رضا کے لیے انجام دے۔

یہی وہ اخلاقی اصول ہے جسے سیرتِ فاطمی کے مطالعے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

ایثار کا حقیقی مفہوم

ایثار صرف مال تقسیم کرنے کا نام نہیں۔ اس کا تعلق انسان کے پورے کردار سے ہے۔ کبھی انسان اپنی راحت قربان کرتا ہے، کبھی اپنی پسند، کبھی اپنا وقت اور کبھی اپنی ذاتی خواہش کو کسی دوسرے کی ضرورت پر قربان کر دیتا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی سیرت کا مطالعہ ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتا ہے کہ روحانیت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ عبادت انسان کے دل میں اللہ کی محبت پیدا کرتی ہے، اور یہی محبت اسے اللہ کی مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک پر آمادہ کرتی ہے۔

اس لیے سیرتِ فاطمی کا پیغام صرف یہ نہیں کہ ہم آپؑ کی عظمت بیان کریں، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے اندر ایثار، اخلاص، سادگی اور دوسروں کی مدد کا جذبہ پیدا کریں۔

۴۔ تین قرآنی مقامات کا مجموعی مطالعہ

آیتِ تطہیر، آیتِ مباہلہ اور سورۂ انسان کی آیات کو یکجا کرکے دیکھا جائے تو حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت کے تین نمایاں پہلو سامنے آتے ہیں۔

آیتِ تطہیر اور حدیثِ کساء آپؑ کے مقام و منزلت اور اہلِ بیتؑ کے خصوصی حلقے میں آپؑ کی شمولیت کو واضح کرتی ہیں۔ آیتِ مباہلہ سے متعلق روایت میں رسول اللہؐ کے منتخب کردہ افراد میں آپؑ کی شرکت سامنے آتی ہے۔ سورۂ انسان کی آیات، ان سے متعلق منقول روایات اور ان کا اخلاقی پیغام ہمیں ایثار، اخلاص اور خدمتِ خلق کی اہمیت سمجھاتے ہیں۔

یہ تینوں پہلو ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ مقام و فضیلت کا بیان اس وقت زیادہ مؤثر ہوتا ہے جب وہ کردار کی تعلیم بھی دے، اور سیرت کا بیان اس وقت زیادہ بامعنی ہوتا ہے جب اسے معتبر تاریخی اور دینی شواہد کی روشنی میں پیش کیا جائے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی عظمت کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ پاکیزگی کے ساتھ کردار، محبت کے ساتھ ذمہ داری، عبادت کے ساتھ خدمت اور حق کے ساتھ استقامت بھی ضروری ہے۔

حاصلِ بحث

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کا مقام قرآن و سنت کی روشنی میں سمجھنے کے لیے آیتِ تطہیر، حدیثِ کساء اور آیتِ مباہلہ سے متعلق روایات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کے ذریعے آپؑ کی خصوصی فضیلت اور رسول اللہؐ سے قربت کے اہم شواہد سامنے آتے ہیں۔ سورۂ انسان کی آیات ہمیں ایثار اور اخلاص کی وہ اخلاقی بنیاد فراہم کرتی ہیں جو سیرتِ فاطمی کے مطالعے کو عملی زندگی سے جوڑتی ہے۔

ایک تحقیقی مطالعے کا تقاضا ہے کہ ان شواہد کو ان کے اصل مآخذ کے ساتھ پیش کیا جائے، روایات کے درجۂ اعتبار میں فرق ملحوظ رکھا جائے اور جہاں تفسیری اختلاف موجود ہو، وہاں اسے دیانت داری سے واضح کیا جائے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی معرفت صرف ان کے فضائل جان لینے کا نام نہیں، بلکہ ان اصولوں کو سمجھنے کا نام ہے جن کی روشنی میں ایک انسان اپنی زندگی کو پاکیزہ، بامقصد اور خدا پسند بنا سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha